Ek khwahish La Hasil Si

Short Stories, Mystery (Urdu)

Short description

full of suspense,emotional

novel: ek khwahish lahasil si..
by: Mahwish Kaleem
❌?dont copy paste❌?

قسط:1 

پچلھےتین گھنٹوں سے اسکی انگلیاں لیپ ٹوپ کے کی پیڈ پر مستقل چل رہی تھیں۔
 آج رات آٹھ بجے تک اُس کو رپورٹ سبمٹ کروانی ہے۔ 
اس کی نظر ہاتھ پر بندھی گھڑی پر گیٔ۔اِس وقت شام کے 6:20 ہو رہے تھے۔اِسنے ھاتوں کی رفتار بڑھادی۔

موبائل پر بیپ ہوئی اُس نے اِگنور کیا۔
 ایک، دو، تین وقفے وقفے سے میسج کی بیپ بجتی رہی اسنے جھنجھلا کر موبائل اٹھایا۔ 

میسنجر پر نوٹیفکیشن تھی کوئی انجان مسلسل میسجز کر رہا تھا۔
اسنے اوپن کر کےسرسری سا دیکھنا چاہا مگر اگلے ہی لمحے وہ حیران رہ گیٔ۔
حجاب کا نام لکھا تھا اس کی خیریت دریافت کی گیٔ تھی۔ حجاب کے کسی جاننے والے کا اتنے سالوں بعد میسج بھیجنا وہ بھی دانیا کے پاس حیران کُن بات تھی۔ وہ حیران رہ گیٔ۔۔ 
حجاب ،دانیا ، ماہم اور مِہر بچپن سے ساتھ تھیں۔
ان کا گروپ مثالی رہا اسکول، کالج، یونورسٹی ہر جگہ اُن کی دوستی کی دھوم تھی۔
بچپن سے آج تک وہ ساتھ تھیں۔
بھلے آج دنیا کے مختلف کونوں میں ریہائش پزیر ہیں مگر دوستی آج بھی قائم ہے۔
مہر کا یونیورسٹی کے زمانے میں ہی ایک کار اِیکسِڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔
جس کا دُکھ آج بھی اِن تینوں کے دلوں میں دفن ہے۔
مگر وقت کب رُکتا ہے۔زندگی کب کسی کے چلے جانے سے رُکی ہے۔
وہ تینوں بھی اپنی اپنی دنیا میں مگن ہو گیٔں۔ 
ماہم کی شادی ابھی تین سال پہلے ہی ہوئی ہےاور وہ اپنے شوہر کے ساتھ کراچی میں مکیم ھے۔
جب کہ حجاب اپنی والدہ کے انتقال کے بعد چچا اور چچی کے پاس رہتی تھی۔
وہ ان کی بیجا ظلم  او زیادتی کا شکار رہی۔
چاچی نے ایک اُدھیڑ عمر کے آدمی سے اس کی شادی کا فیصلہ کیا۔
انکے اس ظلم اور زیادتی سے ڈر کر اس نے وقاص جسے وہ بےحد چاھتی تھی جو کہ ان سب کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔وقاص سے حجاب نے رشتہ گھر بھیجنےکی بہت ضِد کی مگر وہ سیٹلڈ نہ تھا اُس کو شادی کے لیے وقت درکار تھا۔
اور اس درمیان حجاب کی چاچی نے اُس اُدھیڑ عمر آدمی سے اس کی شادی کی تاریخ طے کر دی۔
 نکاح والے دن جب حجاب پارلر سے تیار ہو کر نکلی ماہم اور دانیا نے پلیننگ کے مطابق اُسکو بھگا کر ماہم کی بڑی بہن کے گھر چھپا دیا۔سب سمجھے حجاب کسی کے ساتھ بھاگ گیٔ۔
ماں باپ کاتو پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔بہن،بھائی کوئی تھا نھیں۔
 چاچا،چاچی کب تک ڈھونڈتے اُن کو تو ویسے بھی اپنے سَرسے بوجھ اتارنا تھا۔حجاب کو دِل کھول کر منگھڑت کھانیوں کے ساتھ بدنام کیا اورخاندان بھر سے ہمیشہ کے لیے اس کا باب بند کر دیا۔
حجاب نے ایک دفہ پھر وقاص سے شادی کے لیے رابطہ کیاجس پر وقاص نے جواب دیا کے وہ گھرسے بھاگی ہوئی لڑکی کو اپنے گھر والوں سے کیسے مِلوا سکتا ہے۔اس کے گھر والے ایسی لڑکی سے شادی کے لیے کبھی رضامند نہیں ہونگے اورگھر والوں کی مرضی کے بنا وہ شادی افورڈ نہیں کر سکتا۔تو حجاب اُسے بھول جاۓ۔
وہ حجاب کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا۔
حجاب بلکل ٹوٹ ہی تو چکی تھی ۔
تب ماہم کی امی نے آگے بڑھ کر حجاب کے سر پہ ہاتھ رکھ دیا اور اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے حجاب کو چُن لیا جو کے چند سالوں سے پڑھائی ختم کر کے ڈینمارک میں مُقیم تھے۔ 

حجاب نے آنٹی کی محبت میں سر جھکا دیا اور یوں حجاب شادی کر کے حمزہ بھائی کے ساتھ ڈینمارک میں سیٹلڈ ہو گیٔ۔ 
اب ان 6سالوں بعد دانیاکےپاس ایک انجان آیٔ ڈی سےحجاب کے لیےمیسج کا آنا حیران کُن ھی تو تھا۔

 دانیا کو بیساختہ غصہ آگیا اسکے ہاتھ رِپلاۓ پر گۓ۔ آپ ہیں کون اور اتنے سالوں بعد حجاب کی خیریت دریافت کرنے کا خیال کیونکر آیا۔ 
دانیا کو یقین تھا یہ حجاب کے خاندان کا ہی کویٔ ہوگا۔
اُس نے کھری کھری سنائی اور یہ کھہ کر موبائل رکھ دیا کہ آپ کو سن کرافسوس ھو گا مگر حجاب اللہ کا شکر ھے اپنے شوھر اود بچوں کے ساتھ خوش ھے۔
 آپکو یا کسی کو بھی اسکے لیے پریشان ہونے کی کویٔ ضرورت نہی ہے۔
 یہ کھہ کر اسنے موبائل رکھا اور واپس لیپ ٹاپ میں مگن ھو گیٔ۔ 
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے موبائل ایک بارپھر بج اُٹھا۔ اُس نے میسج کھولا تو smile والے emojiکے ساتھ لکھا تھا۔ 

آپ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں مِس دانیا؟
میں نے حجاب کی خیریت ہی تو پوچھی تھی آپ سے۔۔
آپ کی بھی پوچھ لیتا ہوں اس میں کون سی بڑی بات ہے؟
تو بتائیں کیسی ہیں آپ؟

اتنا فرینک ہوتا لھجہ دانیا کو ہرگز پسند نا آیا۔
اسکا دل تو کیا کہ تبیعت ہری کر دے اسکی۔
 مگر پھر وقت دیکھ کر وہ رک گیٔ۔
 اورموبائل غصے میں بیڈ پر پھینکتے وہ اپنے کام میں مگن ہو گیٔ۔
میسج کی بیپ وقفے وقفے سےبجتےبجتے بند ہوگیٔ۔

 کام ختم کرکے دانیا نے کافی بنائی اود ڈی وی ڈی پر گانا ھلکی آواز میں چلا کر لائٹ بجھا کر بیڈ پر لیٹ گیٔ۔
سونگ کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔  

"میرا من ہے درد بھرا۔
مجھکو راہِ عشق دکھا۔
میں ہاری تقدیر۔ 
بن رانجھا میں ھیر"۔ 

دانیا کی آنکھ سے مسلسل آنسو تیزی سے نکل رھے تھے جو کے ہر رات کی طرح اس کے تکیے میں جزب ہوتے جارھے تھے۔ 

جولائ کا مھینہ تھا اور سڈنی میں سردی اپنے عروج پر تھی۔
 دانیا  ٹھٹھرتی سردی سے لاپرواہ اپنے ماضی اور ہال میں کھوی ہوئی تھی۔ 

جب اچانک موبائل میسج کے بیپ سے بج اٹھا۔

 دانیا نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اُٹھایا۔
 وہاں اس ہی انجان آئ ڈی سے میسج آیا ھوا تھا۔۔ 
جو کہ ایک نہیں کئ میسجز تھے۔ 
دانیا نے پڑھنا شروع کیا۔۔

حجاب  کو میرا سلام دیجیگا۔ اور ساتھ ڈھیروں دعایں بھی دیجیگاکہ وہ ھمیشہ خوش اور آباد رہیں۔

hello medam are you here???

مِس دانیا جواب تو دےدیں۔

اپکے کیا حال ہیں؟ شادی کرلی آپنے؟
ماہم کیسی ہیں؟
آج کل آپکی کیا مصروفیت ہے؟

میرے میسج تو دیکھ لیں کہاں گُم ہوگئی ہیں؟

دانیا سوچ میں پڑ گئ یہ کون ہو سکتاھے اتنا فرینک ایسا کوئ حجاب کا جاننے والا اتنے سالوں کے بعد آخر مجھسےہی کیوں بات کرےگا۔ 

دانیا نے کچھ سوچتے گھَڑی کو دیکھا رات کا 1 بج رھا تھا اسکا مطلب ڈینمارک میں ابھی شام کے 6 بج رہے ہونگےکچھ سوچ کراُسنےحجاب کو کال ملادی جو کے چند بیل کے بعد ہی حجاب نے رسیو کر لی۔

  دوسری طرف سے حجاب کی کھنکتی ہوئی آواذ آئی

 اسلام  و الٔیکم کیسی ہو دانیا؟

 تم سوئی نھیں ابھی تک سب خیریت ہےنا؟

 اُس سے اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد دانیا نے
شیراز نامی شخص کے بارے میں سوال کیا بدلے میں ایک لمبی خاموشی چھاگئ۔
 اس نے حجاب حجاب کئ بار آواز دےڈالی۔۔۔

بلآخر دانیا نے تیزآواز میں پوچھا خاموش کیوں ہوگئ ہو کون ہے یہ شیراز اورتمھیں کیسے جانتاہے آخر۔ 

اس کی تیز آواز پہ حجاب جیسے کسی گیھری سوچ سے چونکی۔ 

جب وہ بولی تو اُسکی آواذ  کچھ بھری بھری سی تھی اور اسن ےصاف انکار کر دیا کہ وہ ایسےکسی انسان کو نھیں جانتی۔

 اسکی آواز اسکے الفاظ کا ساتھ نھیں دے رہی تھی اس سےپہلے کے دانیا کچھ کھتی حجاب نے اجلت میں یہ کہہ کرکال کاٹ دی کے بہت کام ہے بعدمیں بات کرینگے۔ 

دانیا حیران پریشان موبائل دیکھتی رھ گئ کہ آخر یہ کون ہے۔ جسکا نام بھی کبھی حجاب کے منہ سے نا سنا۔

             *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

دانیا بس ابھی ابھی آفس سے لوٹی تھی۔

 وہ ایک ملٹینیشنل کمپنی میں بطور سینیٔر ہوٹل ڈیزائنر کے عہدے پر فائز تھی۔

 وہ ایک منجھی ہوئی ہوٹل ڈیزائینر تھی۔
 جو کے پچھلے تین سالوں سے مسلسل بیسٹ ہوٹل ڈیزائنر کا ایوارڈ جیت رہی تھی۔ 

ایک بہت بڑی ٹیم اس کے انڈر کام کر رہی تھی۔ 

اس کا کام ہی کچھ ایسا تھا کے اُسکو ملکوں ملکوں پِھرنا پڑتاتھا۔ 
آفس کا ہر آنے والا کلائینٹ دانیا سے ہی کام کر وانا چاھتا۔ 

آفس کا ہر بڑا پروجیکٹ دانیا کو دےدیاجاتا۔ 

وہ ابھی تھک کر لیٹی ہی تھی کے گھر کے لینڈ لائن پر کال آگئ۔
 بیل کی آوازگونجتے ہی دانیا  تھکے قدموں کے ساتھ اُٹھی فون اٹھایا اور ہیلو کہنے کےبعد وہ خاموشی سے دوسری طرف کو سن رہی تھی۔

بات ختم ہوتے ہی دوسری جانب سےلائن کاٹ دی گئ۔

دانیانے تھکےوجود کے ساتھ خود کو گھسیٹا ۔
گاڑی کی چابی اٹھائی اور گھر کادروازہ لاک کرتی نکل گئ۔
اس وقت رات کے 10بج رھے تھے۔ 
وہ ایک لکژری فلیٹ جو کے 38منزلہ عمارت پر مشتمل تھا میں 17 فلور میں ریھائش پزیرتھی۔ 
جو کےاس کو آفس کی طرف سے ہی ملا ہوا تھا۔ اسنے پارکنگ سے گاڑی نکالی اور موبائل آن کر کے گوگل میپ کی مدد سے مطلوبہ پتے پہ پھنچ گئ۔ 
اسکی گاڑی کے رکتے ہی ایک شخص اس کی طرف بڑھا گاڑی کی ونڈو پے انگلیوں سے نوک کر کے کھڑا ہوگیا دانیا نے سر اسبات میں ہلایا۔
 اور گاڑی کی ڈگی کا لاک بٹن دبا کے کھول دیا۔
وہ شخص تیزی سے پیچھے کار کی ڈگی کے جانب بڑھ گیا۔ جیسے ہی ڈگی بند ہونے کی آواز آئی دانیا نے گاڑی چلادی۔

              *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

وہ ابھی ایک  کلائینٹ کے ساتھ میٹنگ میں ہی مصروف تھی کے موبائل بج اُٹھا۔

اسنے موبائل پر ایک نظر ڈالی دوسری جانب وہی انجان آئی ڈی سے میسنجرپر کال آ رہی تھی۔
دانیا نے اپنا موبائل سائلینٹ پر لگایا اور میٹنگ میں مصروف ہوگئ۔
 میٹنگ ختم کر کے وہ اپنے پسندیدہ کافی شاپ آگئ ویٹر نے دانیا کو دیکھتے ہی سلام کیا۔
 دانیابھی سر کے اشارے سے جواب دیتی اپنی مخصوص ٹیبل کی جانب قدم بڑھادیے۔ 
تھوڑی ہی دیر میں ویٹر بنا اس سے آرڈر لیۓ اس کی وہی مخصوص بلیک کافی لا کر سرف کر دی۔
 ویٹر ہی کیا ہوٹل کےمالک، مینجر، ھتہ کے گارڈز کو بھی معلوم تھا کےیہ جب بھی آتی ہےوہی مخصوص کافی کے18،20کپ پی جاتی ہے۔
 بنا آس پاس دیکھے وہ اپنی ہی دنیامیں کسی گیھری سوچ میں غرک ہو کر ایک کےبعد ایک کافی کا مگ خالی کرتی جاتی ہے۔ 
ابھی اسنے پانچھواں کپ منٔہ سے ہی لگایا تھا اورسوچوں میں ہی گم تھی کے موبائل کی بار بار ہوتی وائبریشن نے اسکی توجہ اپنی جانب متوجہ کروای۔

اسنے موبائل دیکھا وہی انجان آئ ڈی سے کال آرہی تھی دانیا موبائل ہاتھ میں پکڑے سوچ رھی تھی کے کیا کرے اور دوسری جانب موبائل بار بار وائبریٹ ہو رہا تھا بِل آخر دانیا نے کال اٹھالی۔
 دوسری جانب جیسے فورا" سے کہا گیا۔ 

ھیلو ۔۔ھیلو۔۔
مس دانیا۔۔
دانیا نے بھی جواباً۔۔

 ھاۓ کہا۔
دانیا کا جواب سنتے ہی ایک متمعین سی ہنسی کے ساتھ سلام کیا گیا۔

اسلام و الئیکم کیسی ہیں دانیا آپ۔؟

دانیا نے سلام کا جواب دیتے ہی اگلا سوال کیا آپ کون ہیں اور مجھے کیوں بار بار میسجز کر رھے ھیں۔

دوسری جانب سے جواب آیا۔۔

آپ کونسا رِپلاۓ کر دیتی ھیں جو آپ میرے میسجز سے اتنا بیزار ہو رہی ھیں۔ پھر جیسے بہت مسکراھٹ کے ساتھ کھا گیا۔

 باۓ دا وے اس ناچیز کو شیراز کیہتے ھیں۔
 اور کیا جننا چاہینگی میڈم۔

دانیا نے فورا" کہا کون شیراز آپ مجھے کیسے جانتےھیں اور مجھ سے حجاب کا کیوں پوچھا؟؟ آپ حجاب کو کیسے جانتے ھیں؟؟ 

دوسری طرف سے ھلکی سی ہنسی کے ساتھ جواب آیا۔۔  

آپکو اس بات کا بُرا لگا کے آپکو چھوڑ کرمیں نےحجاب کے بارے میں پوچھا؟یا اس بات کا بُرا لگا کے میں نےآپ سےان کا پوچھا؟؟ 
بُرا آخر لگا کیا؟؟

دانیا نے غصے میں جواب دیا۔۔

دیکھیں مِسٹر آپ جو کوئ بھی ہیں پہلے تو مجھ سے فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات یہ کے مجھے صاف اور سیرھے طریقے سے بتائیں جو میں نےآپ سےپوچھا ہے ورنہ ابھی بلوک کردونگی آپکی آئی ڈی۔

اور یہ دھمکی کارآمدصابت ہوئی دوسری جانب سے اجلت میں کہا گیا۔

اچھا بابا آی ایم سوری میں شیراز ہوں اور حجاب کا ایف بی فرینڈ تھا۔
 حجاب نے ایف بی یوز کرنا چھوڑدی۔
میں بھی بہت کم یوز کرتا تھا اب سالوں بعد لوگ اِن کیا تو میوچول فرینڈ میں ھمیشہ کی طرح آپ دِکھی آپکی آئ ڈی اور ٹائم لائن دیکھی تو وہاں آج بھی دُکھ بھرے عشار ملے وہی دنیاں سے نارازگی کی پوسٹیں وہی سب کچھ۔

 آپکی اور حجاب اور باقی دوستوں کی نوک جھونک میں بہت انجواۓ کرتا تھا

 اکسر آپ سب کی ٹائم لائنز چیک کرتا تھا۔ مجھے مھر کی ڈیتھ کا پتا تھاحجاب  تو ارصے سے آن لائن نہیں آئی باقی ماہم کی ٹائم لائین سے اندازہ ہوا کی انکی شادی ہو چکی ہے اور وہ بہت خوش بھی ہیں۔
 جبکہ آپکی آج بھی ہر پوسٹ غمزدہ سی ہے۔
 پہلے بھی میں چاھتا تھا آپکو جاننا مگر کبھی حمت نھیں کی مگر اب سالوں بعد بھی آپکو ویسا ہی اداس پایا تو مجھسے رہا نا گیا حجاب تو بس آپسے بات کرنے کا ایک بہانہ تھیں۔

 میں کھلے لفظوں میں کہوں تو آپکو جاننا چاھتا ہوں۔

عام الفاظ میں سمجھ لیں میں آپسے دوستی کرنا چاھتا ہوں۔
 میری نیت غلط ہرگز نہیں ہے۔ میں دل سے آپکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رھا ہوں۔

دانیا نے بہت تہمل سے اسکی پوری بات سنی۔
 جب وہ بولی تو بس اتنا کے میرے پاس دوستیں ہیں اور مجھےکسی بھی نئے دوست کی ضرورت نہیں ہے براۓ مھربانی اب میسج مت کیجیگا۔ 
خداحافظ۔

یہ کھہ کردانیا نے بنا روسری طرف کی بات سُنے لائن کاٹ دی ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا۔ 
ویٹربھی حیران حیران تھا کہ آج بس کافی کےپانچ ہی کپ کےبعد بل منگوا لیا۔
بل پے کر کے وہ گھر  کے لئے نکل گئ ڈرائیو کرتی راستےبھر وہ اس شخص کی باتیں سوچتی رہی۔ 

وہ فریش ہوکر کھانا کھاتی مستقل حجاب کا اس دن شیراز کےنام پہ چُپ ہوجانا روئی ہوئی آواز میں کہنا کہ وہ نھیں جانتی اس نام کے کسی انسان کو اور اجلت میں اس کا فون رکھ دینا۔
 وہ تو ہمیشہ دانیا کا فون سُنتے اپنے بچوں کو بھی بھول جاتی تھی گھنٹوں باتیں کرتی تھی دانیا کو ہی فون رکھنا پڑتا تھا۔
 وہ خودکبھی نھیں رکھتی تھی۔
دوسری جانب اُس انسان کی کہی بات اسےصرف ایک جھوٹی کھانی لگ رہی تھی۔ 

کچھ سوچ کر اس نے اس انجان شخص کی آئی ڈی اوپن کرلی۔
 مسکراتاہوا چھرہ ڈیپی میں سامنے تھا سیٹ ہوئ داڑھی جو کے اُس کو اک اسٹائلش لک رےرہی تھی۔

 آنکھوں پہ کونٹیک گلاسز لگے تھے جو کے اسکے چھرے پر بہت سوٹ کر رھے تھے۔
 آنکھیں چشمیں کے اندر سے بھی بےحد حسین لگ رہی تھیں۔
 گیھری آنکھوں میں معصوم سے بچےجیسی شرارت ٹپک رہی تھی جبکہ تصویرمیں وہ بہت ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔

شیراز ہمدانی۔

دانیا کو اس کا چھرہ دیکھا دیکھا سا لگا۔ 

دانیا نے اسکرولِنگ شروع کردی وہ اُسکی آئ ڈی کو چھانتی رہی۔ 
ایک تصویر پہ آکر وہ رک گئ۔

وہ اس چہرے کو پھچانتی تھی۔
 تصویر میں تین لوگ کھڑےتھے تینوں کے نقش ایک روسرے سے بےحد ملتے تھے۔ 
بعقی دو کو دانیا نہیں جانتی تھی جبکہ تیسرا چھرا وقاص کا تھا۔
 وہی وقاص جو ان کی یونیورسٹی کا اک سینیئر اسٹوڈینٹ تھا اور حجاب اور وہ ایک دوسرے میں انٹرسٹڈتھے۔
 دانیا کو حجاب کو دیا وقاص کا دھوکا یاد آگیا۔
وقاص ہمدانی، مطلب شراز ہمدانی وقاص کا بھائی ہے۔
 اور بلاشبہ ان کے کچھ نقش ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ 

ہاں شیراز کی ہائیٹ اور بلڈ بہت اچھی تھی وہ اس تصویر میں سب سے منفرد لگ رھا تھا۔ 
وہ اپنے بھائیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ڈیشنگ تھا۔۔

دانیا کو حجاب کی خاموشی کی وجہ سمجھ آگئ مگر وہ یہ نہیں سمجھ پارہی تھی کے اتنا ارصہ گزرنے کے بعد وقاص نے اپنے بھائ کے ذریے حجاب سے رابطہ کرنےکی کیونکر کوشش کی۔
 اس کا اب جب کے حجاب اپنی زندگی میں بہت خوش ہے تو رابطے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔

دانیا نے  کچھ سوچ اور تجسس کے ساتھ وقاص ہمدانی کی آئ ڈی کھول دی مگر یہ کیا اس کی ڈیپی میں اسکے ساتھ اک لڑکی تھی اور دونوں کا آپس میں اتنی قربت کے ساتھ کھڑے ہونا وقاص کا اس لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالے اورلڑکی کا وقاص کے سینے پر ہاتھ رکھنا
 یہ باورکر رھا تھا کہ  وہ لڑکی اس کی بیوی ہے۔
دانیا کا کمنٹس پڑھنے کے بعد شق یقین میں بدل گیا کہ اسکی بیوی ہی تھی۔ 
مزید تھوڑی ہی اسکرولنگ کے بعد دانیا جان چکی تھی کے وہ دو بیٹوں کا باپ بھی ہے دانیا نے غصہ سے موبائل صوفے پر اُچھال دیا۔

 یہ مرد ہوتےہی فطرتاً بےوفا ہیں۔
حجاب نے کتنی قسمیں دی تھیں واسطے دیے تھے اسے روکنے کے لئے۔
اور اب اتنے عرصے بعد ایک بار پہر اس کو تکلیف پھنچانے چلاآیا ہے۔

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے موبائل پر میسج کی بیپ ہوئی ایک،دو،تین لگاتار میسجز کی بیپ ہوئی اسنے فون اٹھایا تو شیراز ہمدانی کے میسجز تھے فنی فوروڈڈ میسجز دانیا نے کچھ سوچ کر اک مسکراہٹ کے ساتھ اس کو ریپلاے کیا ۔۔
hey hi sheeraz..
how are u doing?
آپ نے مجھ سے دوستی کا کہا تھا۔
بھلا کیسے ہو سکتی ہی ہماری دوستی۔
میں تو آپ کو جانتی بھی نہیں۔

میسج بھیج کر ایک تنزیہ مسکراھٹ کے ساتھ وہ اسکے ریپلاۓ کا انتظار کرنے لگی ایک منٹ سے بھی پھلے ریپلاۓ آگیا۔۔
hey daania i am fine..
بلکل ٹھیک کھہ رہی ہیں آپ۔ مگر ایک دوسرے کو جاننے کے لیے بات کرنا ضروری ہے۔
میرا نام تو آپ جانتی ہیں۔ اور میں کراچی میں رہتا ہوں اور میری تین موبائل شاپ ہے جو میں چلا رہا ہوں۔ صبح سے رات تک دکان اور رات گھر جاکے سوجاتا ہوں بس یہی مصروفیت ہے میری۔

دانیا نے جوابا" بس hmmmm سے کام چلایا۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر سے شیراز نے میسج کیا۔
خاموش کیوں ہوگئی کچھ آپ بھی بتائیں اپنے بارے میں۔۔

دانیا نے جواباً لکھا۔
میرا نام دانیا ہے اور میں ایک
archeitecural and interior designing company میں as a hotel designer 
 جاب کرتی ہوں اور پچھلےپانچ سال سے سِڈنی میں ہوں 
شیراز کا میسج آیا۔
ارے واہ۔
اور آپ اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں یہاں؟
شادی کرلی آپ نے؟

دانیا نے رِپلاے دیا۔
میں اکیلی رہتی ہوں فیملی کے ساتھ نہیں رہتی۔ اور نہیں میں نے شادی نہیں کی۔

دوسری جانب سے پھرسوال پوچھا گیا۔۔
بتانا چاھینگی کے کیوں نہیں کی آپ نے اب تک شادی؟ معاف کیجیےگا میں پرسنل ہو رہا ہوں۔ مگر میں جاننا چاہتا ہوں کےکیوں نہیں کی آپ نے شادی؟ 
اور آپ اپنی فیملی کے ساتھ کیوں نہیں رہتی؟ کہاں ہے آپکی فیملی؟ آپ کیا اور لڑکیوں کے ساتھ روم شئیر کرتی ہیں؟

دانیا نے جواب دیا۔۔

شادی کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ اور میری فیملی میں بس میں،ماما، ڈیڈ ہی تھے میری کوئی بیہن یا بھائی نھیں ہے۔
ماما کا انتقال ہوگیا۔ ڈیڈ نے دوسری شادی کرلی۔ ان کی اپنی زنرگی ہے اور میری اپنی۔
میری یہاں جاب تھی میں یہیں شفٹ ہوگئی۔
شیراز نے پھرسوال کیا اور ڈیڈ کہاں ہوتے ہیں آپکے؟؟؟
دانیا  نے جواب دیا 
وہ کراچی میں ہوتے ہیں۔

پھر میسج آیا۔۔
  oh ok good
ہم تین بھائی اور تین بیہنیں ہیں۔ بیہنیں ساری شادی شدہ ہیں۔ بڑے بھائی کی بھی شادی ہوگئی۔
اب بس ہم دو بھائی شادی کے لیے رہتے ہیں۔ میری بھی امی کا انتقال ہوگیا۔ ابو نے دوسری شادی کرلی۔
میری ان کی نئی بیوی سے نہیں بنتی تو میں گھر میں بس رات میں سونے ہی جاتا ہوں۔ سارا دن دکان میں ہی رہتا ہوں۔

 دانیا نے بس اتنا ہی جواب دیا۔
اچھا۔۔۔ 
شیراز نے پھر میسج کیا۔۔
اور کچھ بتائیں اپنی پسند۔ نا پسند
دانیا نے جواب دیا۔۔

اب بہت رات ہوگئی ہے۔ میری صبح کی فلائٹ ہے huawei کی۔ ایک آفیشل کام سے مجھے  honolulu جانا ہے۔
میں سو رہی ہوں۔ اللہ حافظ۔

کھ کر دانیا نے موبائل سایڈ ٹیبل پے رکھ دیا اور کروٹ لےلی۔۔
میسج کی ٹون دو بار اور بجی مگر دانیا نے آنکھیں بند کر دی۔۔

وہ ائیرپورٹ کے لئیےنکل ہی رہی تھی کے لینڈلاین پر بیل بجی دانیا کے چھرے سے ساری فریشنیس ایکدم غائب ہوگئ۔۔ اسنے بہت بیزاری سے فون پک کیا۔۔ ہیلو بول کر وہ ھمیشہ کی طرح خاموش ہوگئ۔ وہ بس کان سے فون لگائے سن رہی تھی۔اور دوسری جانب بات کر کے لائن ڈسکنکٹ کردی گئ تھی۔اسنے نیہایت بیزاری کے ساتھ ریسیور پٹخ دیا اپنا سوٹ کیس اٹھا کر دروازہ لاک کرتی نکل گئ۔ 
اسنے اپنا سوٹ کیس قریب کھڑی بلیک کار کا ڈور کھول کے رکھ دیا۔جب کے خود اپنی کار کی طرف بڑھ گئ۔ کار کا لاک کھول کر اپنی کار میں بیٹھی اور ایئر پورٹ کے لئیے روانہ ہوگئ۔ جب بوڈنگ کی باری آئی اسکا سوٹ کیس بوڈنگ کاؤنٹر کے پاس رکھا تھا۔ دانیا نے سوٹ کیس اٹھایا بوڈنگ کرائی اورجا کر ڈپارچر لاونج میں بیٹھ گئ۔ 
فلائٹ کے honolulu پھنچتے ہی دانیا نے اپنا سامان لیا اور اوفس کی بھیجی گاڑی میں بیٹھ کر پہلے سے بکنگ شدہ ہوٹل پھنچ کر فریش ہوکر گھڑی کی جانب دیکھا وہاں دوپہر کے دو بجنے والے تھے دانیا نے اپنا سوٹ کیس اُٹھایا اور ہوٹل کی لابی کی طرف بڑہ گئ سوٹ کیس سائڈ پہ رکھ کر اسنے کافی کا آرڈر دےدیا کافی پی کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں آگئ۔میٹنگ اور آفشل ڈنر کے لئیےاس کو رات آٹھ بجے نکلنا تھا۔ ابھی کافی وقت پڑاتھا۔نیند اس کو آنی نہی تھی تو وہ ہوٹل سے باہر نکل آئی۔ 
2 گھنٹے وہ آس پاس کا علاقہ دیکھ کر واپس اپنے ہوٹل کے کمرے میں آگئ ۔ دروازے کا لاک کھولتے ہی جیسے ہی اندر آئی سامنے اُس کا سوٹ کیس رکھا تھا۔ اس نے اِک گیھری سانس لے کر اپنا سوٹ کیس کھولا اور کپڑے نکال کر نہانے چلی گئ۔

No Any Comments......

Trending Writers

View all
“"If you cannot do great things, do small things in a great way." -Napoleon Hill”

Frozen Song

“I do what I do, I love what I love!!”

Frozen Song

“Opportunity is in the eye of the beholder.”

Shelby

“The golden rule for every businessman is this: Put yourself in your customer's place.”

admin